21 اپریل 2013 - 19:30
پاکستان ميں سابق صدر مشرف کي مشکلات

پاکستان کے سابق صدر پرويز مشرف کو انکے وکلا سے ملنے نہيں ديا گيا ہے-

ابنا: پروزير مشرف کے وکيل احمدرضا قصوري نے چک شہزاد ميں واقع پرويز مشرف کي رہائش گاہ کے  باہر صحافيوں سے مختصر گفتگو کے دوران کہا کہ انہيں ان کے موکل پرويز مشرف سے ملنے کي اجازت نہيں دي گئي -  انہوں نے الزام لگايا کہ انتظاميہ نے ان سے مطالبہ کيا ہے کہ پروزير مشرف سے ملاقات کے لئے حکومت پنجاب سے اجازت نامہ لے کر آئيں-ان کا کہنا تھا کہ سپريم کورٹ کے حکم کے باوجود حکام نے پرويز مشرف سے ملاقات کي اجازت نہيں دي ہے -کہا جارہا ہے کہ پاکستان سپريم کورٹ نے پرويز مشرف سے انکے وکلاء کي ملاقات کا حکم نامہ جاري کيا تھا جبکہ سپريم کورٹ کے رجسٹرار نے متعلقہ سيکورٹي ادارے کو فون پر  بھي ملاقات کي ہدايات جاري کي تھيں-دوسري جانب اسلام آباد ہائي کورٹ ميں سابق صدر پروزير مشرف کي رہائش گاہ کو سب جيل قرار ديئےجانے کو چيلنج کرديا گيا ہے-ہائي کورٹ کےوکيل اشرف گجر نے ہائي کورٹ ميں درخواست دائر کرتے ہوئے استدعا کي ہے کہ پرويز مشرف کو اڈيالہ جيل راولپنڈي منتقل کيا جائے -درخواست ميں يہ موقف اختيار کيا گيا ہے کہ جس شخص پر دہشتگردي کي دفعات ہوں اسے اس کي مرضي کي جگہ پر قيد نہيں کيا جاسکتا.

.....

/169